EN हिंदी
لباس فقر میں ہم کو جو خاکسار ملے | شیح شیری
libas-e-faqr mein hum ko jo KHaksar mile

غزل

لباس فقر میں ہم کو جو خاکسار ملے

درشن سنگھ

;

لباس فقر میں ہم کو جو خاکسار ملے
انہیں کے در پہ سلاطین روزگار ملے

وہ راز جس سے سلگتا رہا ہے دل کہہ دیں
ہمارے دل سا اگر کوئی رازدار ملے

شراب خانۂ چشتی میں بھی نظر آئے
ہمیں جو الفت نانک کے بادہ خوار ملے

غم جہاں نگری کا سفر قیامت تھا
ہر ایک ذرے کے سینے میں کوہسار ملے

کوئی بھی دورئ منزل نہیں اگر درشنؔ
جہاں کو میرا جنون خرد شکار ملے