لٹکائی دیوار پہ کس نے حاتم کی تصویر
ہاتھ میں ٹوٹے کاسے تھامے دوڑے آئے فقیر
سوچ رہا ہے دیر سے بے چارہ اک مجمع باز
شام تلک کچھ ہاتھ نہ آیا دن بھر کی تقریر
گاؤں گاؤں مانگ رہے ہیں قسمت کی خیرات
جنت دوزخ بیچنے والے شہری پیر فقیر
بھولے بسرے لفظ اچٹ کر مٹا گئے مفہوم
دن کو پڑھنے بیٹھے جب بھی رات کی ہم تحریر
جلتی فکر کی زد پر آ کر جھلسیں جو الفاظ
آئے ان الفاظ سے کیسے شعروں میں تاثیر
غزل
لٹکائی دیوار پہ کس نے حاتم کی تصویر
فصیح اکمل