EN हिंदी
لگ رہی جس طرح لالہ کے سارے بن کو آگ | شیح شیری
lag rahi jis tarah lala ke sare ban ko aag

غزل

لگ رہی جس طرح لالہ کے سارے بن کو آگ

عشق اورنگ آبادی

;

لگ رہی جس طرح لالہ کے سارے بن کو آگ
دل کو اپنے داغ دیو اے عاشقو اور تن کو آگ

گل پہ یہ شبنم نہیں پانی چھڑکتی ہے بہار
ہائے رے کنے لگائی آ کے اس گلشن کو آگ

ہم سیہ بختوں کا کیوں کر رائیگاں جاوے وبال
شام نیں پھولی یہ لاگی ہے فلک کے تن کو آگ

چل یقیںؔ کی بات پر اے عشقؔ ہم بھی جل مریں
کیا ہی پھولا ہے پلاس اور لگ رہی ہے بن کو آگ