EN हिंदी
لب تک جو نہ آیا تھا وہی حرف رسا تھا | شیح شیری
lab tak jo na aaya tha wahi harf-e-rasa tha

غزل

لب تک جو نہ آیا تھا وہی حرف رسا تھا

شاہد عشقی

;

لب تک جو نہ آیا تھا وہی حرف رسا تھا
جس کو نہ میں سمجھا تھا وہی میرا خدا تھا

اترا تھا رگ و پے میں مری زہر کے مانند
وہ درد کی صورت مرے پہلو سے اٹھا تھا

ہر چند کہ نسبت تو مجھے گل سے رہی تھی
میں بو کی طرح پیرہن گل سے جدا تھا

تنہائی کا احساس رہا اس سے نہ مل کر
ملنے پہ یہ احساس مگر اور سوا تھا

محروم رکھا تھا مجھے میری ہی انا نے
جو اٹھ نہ سکا تھا وہ مرا دست دعا تھا

جیسے کہیں کچھ رکھ کے کوئی بھول گیا ہو
اس طرح ازل سے وہ مجھے ڈھونڈ رہا تھا

دل کہہ کے اسے پہلوئے عشقیؔ میں جگہ دی
وہ شہر کہ اک بار اجڑ کر نہ بسا تھا