EN हिंदी
لب جاں بخش پہ دم اپنا فنا ہوتا ہے | شیح شیری
lab-e-jaan-baKHsh pe dam apna fana hota hai

غزل

لب جاں بخش پہ دم اپنا فنا ہوتا ہے

گویا فقیر محمد

;

لب جاں بخش پہ دم اپنا فنا ہوتا ہے
آج عیسیٰ سے یہ بیمار جدا ہوتا ہے

زلف کو دست حنائی سے جو چھوتا ہے وہ شوخ
تو گرفتار وہیں درد حنا ہوتا ہے

تھا گرفتار شب و روز نگہبانی میں
ہم جو اب چھوٹیں ہیں صیاد رہا ہوتا ہے

پھر بہار آتی ہے اے خار بیاباں خوش ہو
آج کل پھر گزر آبلہ پا ہوتا ہے

مر گئے ہم تو صبا لائی جواب نامہ
وہی ہوتا ہے جو قسمت میں لکھا ہوتا ہے