EN हिंदी
لازم ہے بلند آہ کی رایت نہ کرے تو | شیح شیری
lazim hai buland aah ki rayat na kare tu

غزل

لازم ہے بلند آہ کی رایت نہ کرے تو

رضا عظیم آبادی

;

لازم ہے بلند آہ کی رایت نہ کرے تو
تسخیر اگر دل کی ولایت نہ کرے تو

آنکھوں کا بہے جانا سہا گریے پر افسوس
اب بھی اگر اس دل میں سرایت نہ کرے تو

میں موڑوں نہ منہ اس کی جفا سے پہ کروں کیا
اس وقت وفا پھر جو کفایت نہ کرے تو

جمعیت اغیار سے ڈرتے نہیں عاشق
پر خوف یہ ہے ان کی حمایت نہ کرے تو

اے قاصد اگر نامہ مرا چاک کرے یار
بہتر ہے کہ مجھ سے بھی روایت نہ کرے تو

پھر کہہ تو چمٹ کر نہ لیں ہم بوسہ سو کیوں کر
جب آپ سے گالی بھی عنایت نہ کرے تو

اے میر رضاؔ تجھ کو ابھی اس سے ملا دیں
گر رشک کی پھر ہم سے شکایت نہ کرے تو