EN हिंदी
لالہ و گل پہ خزاں آج بھی جب چھائی ہے | شیح شیری
lala-o-gul pe KHizan aaj bhi jab chhai hai

غزل

لالہ و گل پہ خزاں آج بھی جب چھائی ہے

آسی رام نگری

;

لالہ و گل پہ خزاں آج بھی جب چھائی ہے
کون کہتا ہے گلستاں میں بہار آئی ہے

سوئے مے خانہ چلیں رند نہ کیوں جام بدست
سر مے خانہ جو گھنگھور گھٹا چھائی ہے

پھول مسرور چمن میں ہیں عنادل شاداں
کس کے آنے کی خبر باد صبا لائی ہے

رات نے گیسوؤں سے ان کے سیاہی لی ہے
ان کے رخسار سے سورج نے ضیا پائی ہے