EN हिंदी
لائے تو نقد جاں سر بازار کیا کہیں | شیح شیری
lae to naqd-e-jaan sar-e-bazar kya kahen

غزل

لائے تو نقد جاں سر بازار کیا کہیں

شاہد عشقی

;

لائے تو نقد جاں سر بازار کیا کہیں
ہر شخص ہے اسی کا خریدار کیا کہیں

اک داستان تیشہ ہر اک سنگ و خشت ہے
کیوں بولتے نہیں در و دیوار کیا کہیں

اس کی گلی سے پھیر کے لے آئے جان و دل
کتنا ہے زندگی سے ہمیں پیار کیا کہیں

دشمن ہوئے ہیں اپنے ہوئے جب سے اس کے دوست
خود کو کہیں دوانہ کہ ہشیار کیا کہیں

ہم بھی وہی ہیں تم بھی وہی شہر بھی وہی
حائل مگر ہے وقت کی دیوار کیا کہیں

ساز شکست دل تو سدا سے خموش ہے
ہوتا ہے کیسے شعر میں اظہار کیا کہیں