EN हिंदी
کیوں کر یہ تف اشک سے مژگاں میں لگی آگ | شیح شیری
kyunkar ye tuf-e-ashk se mizhgan mein lagi aag

غزل

کیوں کر یہ تف اشک سے مژگاں میں لگی آگ

منور خان غافل

;

کیوں کر یہ تف اشک سے مژگاں میں لگی آگ
شبنم سے کہیں بھی ہے نیستاں میں لگی آگ

نہ اس سے دھواں نکلے ہے نہ شعلہ اٹھے ہے
یہ طرفہ ہمارے دل نالاں میں لگی آگ

آتش جو ہمارے تن پر داغ کی بھڑکی
دامن سے بجھائی تو گریباں میں لگی آگ

گھر تو نے رقیبوں کا نہ اے آہ جلایا
پھر کیا جو مرے کلبہ احزاں میں لگی آگ

شاخیں شجر بید سے آہو نے رگڑ کر
وہ شعلہ نکالا کہ بیاباں میں لگی آگ

تاثیر تری دیکھ لی اے آہ شرربار
اک دن نہ کبھی گنبد گرداں میں لگی آگ

اللہ رے گرمی‌ٔ مے انگور کی غافلؔ
اک جام کو پیتے ہی دل و جاں میں لگی آگ