EN हिंदी
کیوں مشت خاک پر کوئی دل داغ دار ہو | شیح شیری
kyun musht-e-KHak par koi dil daghdar ho

غزل

کیوں مشت خاک پر کوئی دل داغ دار ہو

شاہ دین ہمایوں

;

کیوں مشت خاک پر کوئی دل داغ دار ہو
مر کر بھی یہ ہوس کہ ہمارا مزار ہو

بڑھ جائے غم کا سلسلہ کہسار کی طرح
طولانی گر یہ زندگئ مستعار ہو

اس صید گاہ میں وہی نکلے گا بچ کے صاف
جو صید سب سے پہلے اجل کا شکار ہو

اس بوالہوس کی موت کے قربان جائیے
جو پھر دوبارہ جینے کا امیدوار ہو

ہستی کا طوق تو ہے قیامت پس وفات
یارب کہیں یہ میرے گلے کا نہ ہار ہو

یکساں ہے اہل دل کے لیے انبساط و غم
باغ جہاں میں آئے خزاں یا بہار ہو