EN हिंदी
کیوں خفا تو ہے کیا کہا میں نے | شیح شیری
kyun KHafa tu hai kya kaha maine

غزل

کیوں خفا تو ہے کیا کہا میں نے

عبدالرحمان احسان دہلوی

;

کیوں خفا تو ہے کیا کہا میں نے
مر کہا تو نے مرحبا میں نے

کیوں صراحی مے کو دے پٹکا
تو نے توڑا یا بے وفا میں نے

ناتوانی میں یہ توانائی
دل کو تجھ سے اٹھا دیا میں نے

دے کے یہ تجھ کو یہ لیا کہ دیا
گوہر بے بہا لیا میں نے

کیوں خم مے کو محتسب توڑا
کیا کیا میں نے کیا کیا میں نے

کیوں نہ رک رک کے آئے دم میرا
تجھ کو دیکھا رکا رکا میں نے

گل ہزاروں میں شمع عیش احساںؔ
جیسے اس گل کو دل دیا میں نے