EN हिंदी
کیا ملا اے زندگی قانون فطرت سے مجھے | شیح شیری
kya mila ai zindagi qanun-e-fitrat se mujhe

غزل

کیا ملا اے زندگی قانون فطرت سے مجھے

سجاد باقر رضوی

;

کیا ملا اے زندگی قانون فطرت سے مجھے
کچھ ملا حق بھی تو باطل کی وساطت سے مجھے

میرے مالک میں تکبر سے نہیں ہوں سر بلند
سر جھکا اتنا ہوئی نفرت اطاعت سے مجھے

میں وہ عاشق ہوں کہ خود ہی چومتا ہوں اپنے ہاتھ
کب بھلا فرصت ملی اپنی رقابت سے مجھے

میں وہ ٹوٹا آئنہ ہوں آپ اپنے سامنے
جس میں ہول آتا ہے خود اپنی ہی صورت سے مجھے

میں وہ پتھر ہوں کہ جس میں دودھ کی نہریں بھی ہیں
تیشۂ فرہاد مت ٹھکرا حقارت سے مجھے

میں وہ عالم ہوں کہ ہر عالم ہے مجھ میں ہمکنار
تو ذرا پہچان خود اپنی شباہت سے مجھے

خار زار دشت میں ہوں اور تو سرو چمن
تو بھلا کیوں ناپتا ہے اپنے قامت سے مجھے

حیف کس کے آگے لفظوں کے دیئے روشن کیے
کتنی امیدیں ہیں اندھوں کی بصارت سے مجھے

میں کہاں بیٹھوں کہ سائے بھی گریزاں مجھ سے ہیں
اب تو دیواریں بھی تکتی ہیں حقارت سے مجھے

میں گریباں چاک تاریکی میں کب تک منہ چھپاؤں
اب تو شرم آنے لگی اپنی ندامت سے مجھے

آتی ہیں وحشت سرائے دل سے آوازیں عجب
دیکھتے ہیں اب تو ویرانے بھی حیرت سے مجھے

اب اگر کچھ بھی نہیں ہوتا تو شور حشر ہو
کم نہیں ہے اتنا سناٹا قیامت سے مجھے

کون ناصر میرا باقرؔ کس کو میرا انتظار
کوئے‌ گم نامی میں ہوں کیا کام شہرت سے مجھے