EN हिंदी
کیا کہوں تم سے میں یارو کون ہوں | شیح شیری
kya kahun tum se main yaro kaun hun

غزل

کیا کہوں تم سے میں یارو کون ہوں

شاہ آثم

;

کیا کہوں تم سے میں یارو کون ہوں
ہوں سراپا قیس صحرائے جنوں

چشم خوں افشاں مری رو دیں اگر
دشت ہو جاوے ابھی دریائے خوں

دار پر رکھیں مجھیں منصور وار
فاش کر دوں میں اگر راز دروں

عشق ہے گنجینۂ اصرار حق
پا نہیں سکتی اسے عقل زبوں

کون کر سکتا ہے مجھ دیوانہ کون
قید جز زنجیر و زلف پر فسوں

روبرو مستان جام عشق کے
دین کیا ہے اور کیا دنیائے دوں

اب تو آثمؔ عشق خادم شاہ میں
ہوں سراپا قیس صحرائے جنوں