کیا عشق کا لیں نام ہوس عام نہیں ہے
اندھوں کو اندھیرے میں کوئی کام نہیں ہے
تھا جام تو اس آس پہ بیٹھے تھے کہ مے آئے
مے آئی تو رندوں کے لئے جام نہیں ہے
جیتے ہو تو جینے کا عوض زیست سے مانگو
موت اپنا مقدر ہے یہ انعام نہیں ہے
کٹ جائے گی یہ رات گزارو کسی کروٹ
اب صبح سے پہلے تو کوئی شام نہیں ہے
جیتے تھے کہ سردوش پہ تھا بار گراں تھا
مرتے ہیں کہ سر پر کوئی الزام نہیں ہے
یاں روشنئ صبح تو واں نکہت گل ہے
یوں حسن گریزاں کا کوئی نام نہیں ہے
خود وقت کو ملتا ہے سکوں تیری گلی میں
سنتے ہیں وہاں گردش ایام نہیں ہے
سایہ ہوں مگر مہر درخشاں سے ہے نسبت
ظلمت ہوں پر اندھوں سے مجھے کام نہیں ہے
باقرؔ سے نہیں عزت سادات پہ کچھ حرف
عاشق تو بنا پھرتا ہے بدنام نہیں ہے

غزل
کیا عشق کا لیں نام ہوس عام نہیں ہے
سجاد باقر رضوی