EN हिंदी
کیا ڈھونڈتے ہو اب جرس رفتگاں کی دھول | شیح شیری
kya DhunDte ho ab jaras-e-raftagan ki dhul

غزل

کیا ڈھونڈتے ہو اب جرس رفتگاں کی دھول

مصور سبزواری

;

کیا ڈھونڈتے ہو اب جرس رفتگاں کی دھول
اک کارواں کے ساتھ گئی کارواں کی دھول

کل تک تھے میرا قافلہ ہم جس کے دوستو
انجام کار اب ہیں اسی کارواں کی دھول

مدفن تری گلی میں بنانے چلے تو ہیں
یہ آندھیاں بتائیں گی ہم ہیں کہاں کی دھول

رہ میں یہ کون آبلہ پایان شوق ہیں
مڑ مڑ کے دیکھتی ہے جنہیں کارواں کی دھول

لرزاں ہیں بام و در پہ گئی محفلوں کے سائے
آنکھوں میں اڑ رہی ہے دیار بتاں کی دھول

کیسے تمہاری پیاس بجھائیں مسافرو
ہم تو ہیں ایک چشمۂ ریگ رواں کی دھول

دامن میں کون باندھے مصورؔ ہمیں یہاں
گرد مزار ہم نہ کسی آستاں کی دھول