EN हिंदी
کچھ اس کے سوا خواہش سادہ نہیں رکھتے | شیح شیری
kuchh is ke siwa KHwahish-e-sada nahin rakhte

غزل

کچھ اس کے سوا خواہش سادہ نہیں رکھتے

نجیب احمد

;

کچھ اس کے سوا خواہش سادہ نہیں رکھتے
ہم تجھ سے بچھڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے

کب دل کی طرف لوٹ کے آئیں گے سفینے
صحرا کے بگولے غم جادہ نہیں رکھتے

کیا خاک سمٹ پائیں گے دنیا کے بکھیڑے
ہم لوگ تو دامن بھی کشادہ نہیں رکھتے

اڑ جائیں گے ہم بھی ورق خاک سے اک دن
رنگوں کے سوا کوئی لبادہ نہیں رکھتے

ہر آنکھ کو ہم ساغر و مینا نہیں کہتے
ہر آنکھ پہ ہم تہمت بادہ نہیں رکھتے

قائم بھرم اپنا ہے اسیری سے وگرنہ
ہم طاقت پرواز زیادہ نہیں رکھتے