EN हिंदी
کچھ غرض ہم کو نہیں ہے کہ کہاں لے جائے | شیح شیری
kuchh gharaz hum ko nahin hai ki kahan le jae

غزل

کچھ غرض ہم کو نہیں ہے کہ کہاں لے جائے

محمد اعظم

;

کچھ غرض ہم کو نہیں ہے کہ کہاں لے جائے
چل دئے بس دل دیوانہ جہاں لے جائے

وہ گلی خلد سے بہتر ہے بس اتنا سن کر
کوئی واقف ہو تو ہم کو بھی وہاں لے جائے

میری آواز ہوئی جاتی ہے اس کی آواز
اب ہے کیا دور کہ اس تک یہ فغاں لے جائے

موج سرکش کو خبردار کیا تھا ہم نے
اس کو جانا تھا جہاں جوئے رواں لے جائے

گل نہیں دیں گے کبھی بلبل محتاج کو زر
خواہ سرمایہ یہ سب باد خزاں لے جائے

عشق میں اس کے بس اک جان ہے باقی یہ بھی
دیکھیے کب غضب ہم وطناں لے جائے

میری باتیں ہی خوش آتی ہیں اسے جیسے کوئی
کر کے آتش نظر انداز دھواں لے جائے