EN हिंदी
کوششیں کر کے دل برا کیا تھا | شیح شیری
koshishen kar ke dil bura kiya tha

غزل

کوششیں کر کے دل برا کیا تھا

اظہر فراغ

;

کوششیں کر کے دل برا کیا تھا
اس پرندے کو جب رہا کیا تھا

کم اذیت میں جان چھوٹ گئی
اپنے قاتل سے مشورہ کیا تھا

خاک سے جتنا زہر جذب کیا
اپنی شاخوں سے رونما کیا تھا

میں نے اک دن بٹھا کے بچوں کو
اپنے اجداد کا گلا کیا تھا

ہم سے سرزد ہوا تھا کار خیر
کیا بتائیں کہ ہم نے کیا کیا تھا

ویسے وہ میری دسترس میں ہے
احتیاطاً محاصرہ کیا تھا