EN हिंदी
کوشش تو ہے کہ ضبط کو رسوا کروں نہیں | شیح شیری
koshish to hai ki zabt ko ruswa karun nahin

غزل

کوشش تو ہے کہ ضبط کو رسوا کروں نہیں

راجیش ریڈی

;

کوشش تو ہے کہ ضبط کو رسوا کروں نہیں
ہنس کر ملوں سبھی سے کسی پر کھلوں نہیں

قیمت چکا رہا ہوں میں شہرت کی اس طرح
وہ ہو کے رہ گیا ہوں جو دراصل ہوں نہیں

اے موت کم ہی رہتا ہوں میں اپنے آپ میں
ایسا نہ ہو نہ کہ آئے تو اور میں ملوں نہیں