EN हिंदी
کوئی سلسلہ نہیں جاوداں ترے ساتھ بھی ترے بعد بھی | شیح شیری
koi silsila nahin jawedan tere sath bhi tere baad bhi

غزل

کوئی سلسلہ نہیں جاوداں ترے ساتھ بھی ترے بعد بھی

اظہر فراغ

;

کوئی سلسلہ نہیں جاوداں ترے ساتھ بھی ترے بعد بھی
میں تو ہر طرح سے ہوں رائیگاں ترے ساتھ بھی ترے بعد بھی

مرے ہم نفس تو چراغ تھا تجھے کیا خبر مرے حال کی
کہ جیا میں کیسے دھواں دھواں ترے ساتھ بھی ترے بعد بھی

نہ ترا وصال وصال تھا نہ تری جدائی جدائی ہے
وہی حالت دل بد گماں ترے ساتھ بھی ترے بعد بھی

میں یہ چاہتا ہوں کہ عمر بھر رہے تشنگی مرے عشق میں
کوئی جستجو رہے درمیاں ترے ساتھ بھی ترے بعد بھی

مرے نقش پا تجھے دیکھ کر یہ جو چل رہے ہیں انہیں بتا
ہے مرا سراغ مرا نشاں ترے ساتھ بھی ترے بعد بھی