EN हिंदी
کوئی موسم ہو کچھ بھی ہو سفر کرنا ہی پڑتا ہے | شیح شیری
koi mausam ho kuchh bhi ho safar karna hi paDta hai

غزل

کوئی موسم ہو کچھ بھی ہو سفر کرنا ہی پڑتا ہے

فرخ جعفری

;

کوئی موسم ہو کچھ بھی ہو سفر کرنا ہی پڑتا ہے
ادھر سے بوجھ کاندھے کا ادھر کرنا ہی پڑتا ہے

کہاں جاتے ہیں کیا کرتے ہیں کس کے ساتھ رہتے ہیں
ہمیں اپنا تعاقب عمر بھر کرنا ہی پڑتا ہے

وہ اپنے تن پہ سہہ کر ہو کہ اپنی جان پر پھر بھی
ہمیں اک معرکہ ہر روز سر کرنا ہی پڑتا ہے

کھلا رکھیں نہ رکھیں گھر کا دروازہ مگر فرخؔ
سفر آنکھوں کو تا حد نظر کرنا ہی پڑتا ہے