کوئی مے دے یا نہ دے ہم رند بے پروا ہیں آپ
ساقیا اپنی بغل میں شیشۂ صہبا ہیں آپ
غافل و ہشیار وہ تمثال یک آئینہ ہیں
ورطۂ حیرت میں ناداں آپ ہیں دانا ہیں آپ
کیوں رہے میری دعا منت کش بال ملک
نالۂ مستانہ میرے آسماں پیما ہیں آپ
ہے تعجب خضر کو اور آب حیواں کی طلب
اور پھر عزلت گزین دامن صحرا ہیں آپ
منزل طول امل درپیش اور مہلت ہے کم
راہ کس سے پوچھئے حیرت میں نقش پا ہیں آپ
حق سے طالب دید کے ہوں ہم بصیر ایسے نہیں
ہم کو جو کوتہ نظر سمجھیں وہ نا بینا ہیں آپ
گل ہمہ تن زخم ہیں پھر بھی ہمہ تن گوش ہیں
بے اثر کچھ نالہ ہائے بلبل شیدا ہیں آپ
حرص سے شکوہ کروں کیا ہاتھ پھیلانے کا میں
کہتی ہے وہ اپنے ہاتھوں خلق میں رسوا ہیں آپ
ہم سے اے اہل تنعم منہ چھپانا چاہئے
دم بھرا کرتے ہیں ہم اور آئنہ سیما ہیں آپ
غزل
کوئی مے دے یا نہ دے ہم رند بے پروا ہیں آپ
نظم طبا طبائی