EN हिंदी
کوئی ہو چہرہ شناسا دکھائی دیتا ہے | شیح شیری
koi ho chehra shanasa dikhai deta hai

غزل

کوئی ہو چہرہ شناسا دکھائی دیتا ہے

اعجاز عبید

;

کوئی ہو چہرہ شناسا دکھائی دیتا ہے
ہر اک میں ایک ہی مکھڑا دکھائی دیتا ہے

اسی شجر پہ شفق کا کرم ہے شاید آج
وہ اک شجر جو سنہرا دکھائی دیتا ہے

ادھر وہ دیکھو کہ آکاش کتنا دل کش ہے
جہاں وہ دھرتی سے ملتا دکھائی دیتا ہے

دکھائیں تم کو غروب آفتاب کا منظر
یہاں افق کا کنارہ دکھائی دیتا ہے

وہی تو ہے جو مری جستجو کی منزل ہے
کوئی بھی شخص جو مجھ سا دکھائی دیتا ہے