EN हिंदी
کوئی بھی شکل مرے دل میں اتر سکتی ہے | شیح شیری
koi bhi shakl mere dil mein utar sakti hai

غزل

کوئی بھی شکل مرے دل میں اتر سکتی ہے

اظہر فراغ

;

کوئی بھی شکل مرے دل میں اتر سکتی ہے
اک رفاقت میں کہاں عمر گزر سکتی ہے

تجھ سے کچھ اور تعلق بھی ضروری ہے مرا
یہ محبت تو کسی وقت بھی مر سکتی ہے

میری خواہش ہے کہ پھولوں سے تجھے فتح کروں
ورنہ یہ کام تو تلوار بھی کر سکتی ہے

ہو اگر موج میں ہم جیسا کوئی اندھا فقیر
ایک سکے سے بھی تقدیر سنور سکتی ہے

صبح دم سرخ اجالا ہے کھلے پانی میں
چاند کی لاش کہیں سے بھی ابھر سکتی ہے