EN हिंदी
کوئی بھی دار سے زندہ نہیں اترتا ہے | شیح شیری
koi bhi dar se zinda nahin utarta hai

غزل

کوئی بھی دار سے زندہ نہیں اترتا ہے

شکیل جمالی

;

کوئی بھی دار سے زندہ نہیں اترتا ہے
مگر جنون ہمارا نہیں اترتا ہے

تباہ کر دیا احباب کو سیاست نے
مگر مکان سے جھنڈا نہیں اترتا ہے

میں اپنے دل کے اجڑنے کی بات کس سے کہوں
کوئی مزاج پہ پورا نہیں اترتا ہے

کبھی قمیض کے آدھے بٹن لگاتے تھے
اور اب بدن سے لبادہ نہیں اترتا ہے

مصالحت کے بہت راستے ہیں دنیا میں
مگر صلیب سے عیسیٰ نہیں اترتا ہے

جواریوں کا مقدر خراب ہے شاید
جو چاہئے وہی پتا نہیں اترتا ہے