EN हिंदी
کوئی بے جاں کوئی بے گھر نہیں دیکھا جاتا | شیح شیری
koi be-jaan koi be-ghar nahin dekha jata

غزل

کوئی بے جاں کوئی بے گھر نہیں دیکھا جاتا

سید امین اشرف

;

کوئی بے جاں کوئی بے گھر نہیں دیکھا جاتا
روز طرارۂ محشر نہیں دیکھا جاتا

چھین لے حیرت نظارہ یہ بینائی بھی
آنکھ ہوتی ہے تو منظر نہیں دیکھا جاتا

بے حسی شرط ہے جینے کے لئے یہ دنیا
خم ابرو ہے کہ خنجر نہیں دیکھا جاتا

دیکھیے خسروی و منصفی و دادرسی
تاج و تخت و زر و لشکر نہیں دیکھا جاتا

کھیل بچوں کا نہیں شعلۂ صد خرمن ہے
گل خوبی ہے تو چھوکر نہیں دیکھا جاتا

دید کی شب تھی کہ بطلان تھا اس دعوے کا
رات میں مہر منور نہیں دیکھا جاتا