EN हिंदी
کتنا بیکار تمنا کا سفر ہوتا ہے | شیح شیری
kitna bekar tamanna ka safar hota hai

غزل

کتنا بیکار تمنا کا سفر ہوتا ہے

سیف الدین سیف

;

کتنا بیکار تمنا کا سفر ہوتا ہے
کل کی امید پہ ہر آج بسر ہوتا ہے

یوں میں سہما ہوا گھبرایا ہوا رہتا ہوں
جیسے ہر وقت کسی بات کا ڈر ہوتا ہے

دن گزرتا ہے تو لگتا ہے بڑا کام ہوا
رات کٹتی ہے تو اک معرکہ سر ہوتا ہے

لوگ کہتے ہیں مقدر کا نوشتہ جس کو
ہم نہیں مانتے ہر چند مگر ہوتا ہے

سیفؔ اس دور میں اتنا بھی غنیمت سمجھو
قید میں روزن دیوار بھی در ہوتا ہے