EN हिंदी
کسو کو مجھ سے نے مجھ کو کسو سے کام رہتا ہے | شیح شیری
kisu ko mujhse ne mujhko kisu se kaam rahta hai

غزل

کسو کو مجھ سے نے مجھ کو کسو سے کام رہتا ہے

میر اثر

;

کسو کو مجھ سے نے مجھ کو کسو سے کام رہتا ہے
مرے دل میں سوا تیرے خدا کا نام رہتا ہے

کچھ ان روزوں دل اپنا سخت بے آرام رہتا ہے
اسی حالت میں لے کر صبح سے تا شام رہتا ہے

کلیجہ پک گیا ہے کیا کہوں اس دل کے ہاتھوں سے
ہمیشہ کچھ نہ کچھ اس میں خیال خام رہتا ہے

بیاں میں کیا کروں اس سے اب آگے اپنی ناکامی
ترے یہ طور اور مجھ کو تجھی سے کام رہتا ہے

بلا جانے اثرؔ دوراں یہ کیدھر چرخ مارے ہے
ہماری بزم میں دن رات دور جام رہتا ہے