EN हिंदी
کسی نے چہرے پہ بکھرا لیا تھا زلفوں کو (ردیف .. ے) | شیح شیری
kisi ne chehre pe bikhra liya tha zulfon ko

غزل

کسی نے چہرے پہ بکھرا لیا تھا زلفوں کو (ردیف .. ے)

جگر بریلوی

;

کسی نے چہرے پہ بکھرا لیا تھا زلفوں کو
ذرا سی بات تھی بس لے اڑے ہیں دیوانے

یہ پھول کھلتے ہیں گلزار میں کہ پردے سے
بڑھا کے ہاتھ کوئی دے رہا ہے پیمانے

ہوئی ہے باعث طغیان عشق گرمی حسن
جلے نہ شمع تو کیوں گھر کے آئیں پروانے

جہان جن سے تھا اک بزم نا و نوش تمام
کہاں وہ بادہ گسار اب کہاں وہ میخانے

جو عقل والے ہیں چلتے ہیں اپنی اپنی راہ
سب اک روش پہ چلے جا رہے ہیں دیوانے

نہیں ہے فرق کوئی نور اور ظلمت میں
حواس گم ہیں وہ پلٹا لیا ہے دنیا نے

چمک اٹھیں تو مہ و مہر کو بھی کر دیں ماند
وہ ذرے گود میں اپنی لئے ہیں ویرانے

کسی کے تیر لگے سینے میں خدا نہ کرے
ہمارے دل میں ہے کیا درد کوئی کیا جانے

ہمارے واسطے ساقی پیالہ و خم ایک
چھلک چلیں جو وہ ہوتے ہیں اور پیمانے

خدا سمجھنے سے آخر بچا لیا مجھ کو
ہزار شکر مرے عیب تم نے پہچانے

ہے دل میں آگ تو آنکھوں میں لالہ زار جگرؔ
نگاہ ناز کے انداز کوئی کیا جانے