EN हिंदी
کسی نے بھی اسے دیکھا نہیں ہے | شیح شیری
kisi ne bhi use dekha nahin hai

غزل

کسی نے بھی اسے دیکھا نہیں ہے

مصطفی شہاب

;

کسی نے بھی اسے دیکھا نہیں ہے
وہ اک احساس ہے چہرہ نہیں ہے

مری جو سانس آ کر جا رہی ہے
تو کیا یہ جان کا جانا نہیں ہے

عجب شہر انا میں جی رہا ہوں
کسی کے پاس آئینا نہیں ہے

مجھے جو لوگ رستہ دے رہے ہیں
انہیں خود راستہ ملتا نہیں ہے

اکیلا سا جو ہے اک شخص باہر
وہ مجھ میں ہے مگر تنہا نہیں ہے

محبت ہے شہابؔ اک اسم اعظم
در دل خود ہی وا ہوتا نہیں ہے