EN हिंदी
کسی نے بھی نہ میری ٹھیک ترجمانی کی | شیح شیری
kisi ne bhi na meri Thik tarjumani ki

غزل

کسی نے بھی نہ میری ٹھیک ترجمانی کی

سوپنل تیواری

;

کسی نے بھی نہ میری ٹھیک ترجمانی کی
دھواں دھواں ہے فزا میری ہر کہانی کی

چلو نکالو مرے پاؤں میں چبھا تارہ
زمیں کی سطح تمہیں نے تو آسمانی کی

گناہ عشق کیا اور کوئی سزا نہ ہوئی
ضرور تم نے ثبوتوں سے چھیڑخوانی کی

ترا خیال ہوا کینوس پہ مہماں کل
تمام رنگوں نے مل کر کے میزبانی کی