EN हिंदी
کسی کا انہیں پاس غربت نہیں ہے | شیح شیری
kisi ka unhen pas-e-ghurbat nahin hai

غزل

کسی کا انہیں پاس غربت نہیں ہے

رشید رامپوری

;

کسی کا انہیں پاس غربت نہیں ہے
پرائی مصیبت مصیبت نہیں ہے

طلب شیوۂ اہل ہمت نہیں ہے
مرا دل کسی کی امانت نہیں ہے

کچھ ایسا زمانے نے بدلا ہے پہلو
کسی کو کسی سے محبت نہیں ہے

نصیبوں سے ملتا ہے درد محبت
یہ وہ چیز ہے جس کی قیمت نہیں ہے

بتوں سے ستم پر بھی اظہار الفت
رشیدؔ آپ میں آدمیت نہیں ہے