کسی کا ساتھ میاں جی سدا نہیں رہا ہے
مگر دلوں کو ابھی صبر آ نہیں رہا ہے
یہی تو ہے جو خیالوں سے جا نہیں رہا ہے
یہ آدمی جو مرا فون اٹھا نہیں رہا ہے
ہمارے بیچ کوئی با وفا نہیں رہا ہے
یہ بات کوئی کسی کو بتا نہیں رہا ہے
مرے عزیز مری غیبتوں میں لگ گئے ہیں
کہ اب کسی کو کوئی مشغلہ نہیں رہا ہے
کہیں اسے مرا نعم البدل نہ مل گیا ہو
کئی دنوں سے مری سمت آ نہیں رہا ہے
یہ چند فیصلہ کن ساعتیں ہیں سب کے لئے
اسی لیے تو کوئی مسکرا نہیں رہا ہے
سب اپنے اپنے کٹورے لئے کھڑے ہوئے ہیں
کسی کے ہاتھ ابھی کچھ بھی آ نہیں رہا ہے
ترے گناہ سے پردہ ضرور اٹھے گا
ابھی تو خیر کوئی بھی اٹھا نہیں رہا ہے
جو رنگ مجھ سے مرے ناقدین چاہتے ہیں
وہ رنگ میری کہانی میں آ نہیں رہا ہے
غزل
کسی کا ساتھ میاں جی سدا نہیں رہا ہے
شکیل جمالی

