EN हिंदी
کسے خبر ابتدا کی انجام کون جانے | شیح شیری
kise KHabar ibtida ki anjam kaun jaane

غزل

کسے خبر ابتدا کی انجام کون جانے

جلیل عالیؔ

;

کسے خبر ابتدا کی انجام کون جانے
گمان باطل خیال سب خام کون جانے

تمام لفظوں کا ایک مفہوم کون سمجھے
تمام چیزوں کا ایک ہی نام کون جانے

پجاریوں کے لیے ازل سے تڑپ رہے ہیں
سمے کے پہلو میں کتنے اصنام کون جانے

نکل کے دن کی تمازتوں سے وفا کا سورج
ہوا ہے خوں کس طرح سر شام کون جانے

اداس جذبوں کے دلدلی راستوں پہ عالؔی
سنبھل گیا چل کے گام دو گام کون جانے