EN हिंदी
کس کی محفل سے اٹھ کے آیا ہوں | شیح شیری
kis ki mahfil se uTh ke aaya hun

غزل

کس کی محفل سے اٹھ کے آیا ہوں

جمیل ملک

;

کس کی محفل سے اٹھ کے آیا ہوں
اپنے گھر میں ہوں اور تنہا ہوں

تو مری زندگی کی شام نہ بن
میں تری صبح کا اجالا ہوں

چاند میں بستیاں بسا لینا
مجھ کو ڈھونڈھو کہ میں بھی دنیا ہوں

جان امروز رونق فردا
کوئی سمجھے مجھے تو کیا کیا ہوں

کیسے جھٹلائے‌ گی مجھے دنیا
میں کہ حالات کا تقاضا ہوں

میری خوشبو سے بس رہے ہیں چمن
میں ہر اک شاخ گل سے پیدا ہوں

یہ جہاں مزرع تمنا ہے
اور میں حاصل تمنا ہوں