کن حوالوں میں آ کے الجھا ہوں
تیری آنکھوں میں خود کو پڑھتا ہوں
کون مجھ میں ہے بر سر پیکار
روز کس سے جہاد کرتا ہوں
راہ مڑ مڑ کے لوٹ آتی ہے
گھر سے جب بھی ذرا نکلتا ہوں
رشتۂ دل کسی سے ٹوٹا ہے
روز راہیں نئی بدلتا ہوں
آنسوؤں سے ہوا کے آنچل پر
کس ستم گر کا نام لکھتا ہوں

غزل
کن حوالوں میں آ کے الجھا ہوں
سید شکیل دسنوی