EN हिंदी
کیدھر کی خوشی کہاں کی شادی | شیح شیری
kidhar ki KHushi kahan ki shadi

غزل

کیدھر کی خوشی کہاں کی شادی

میر اثر

;

کیدھر کی خوشی کہاں کی شادی
جب دل سے ہوس ہی سب اڑا دی

تا ہاتھ لگے نہ کھوج دل کا
عیار نیں زلف ہی اٹھا دی

پل مارتے خاک میں ملایا
ٹک ہنس کے جدھر نظر ملا دی

یا رب سوا لقائے وجہک
لا مقصودی و لا مرادی

دیتے ہو کسے یہ بد دعائیں
کیا پیارے اثرؔ نیں پھر دعا دی