کیدھر کی خوشی کہاں کی شادی
جب دل سے ہوس ہی سب اڑا دی
تا ہاتھ لگے نہ کھوج دل کا
عیار نیں زلف ہی اٹھا دی
پل مارتے خاک میں ملایا
ٹک ہنس کے جدھر نظر ملا دی
یا رب سوا لقائے وجہک
لا مقصودی و لا مرادی
دیتے ہو کسے یہ بد دعائیں
کیا پیارے اثرؔ نیں پھر دعا دی
غزل
کیدھر کی خوشی کہاں کی شادی
میر اثر

