EN हिंदी
خشک دریاؤں کو پانی دے خدا | شیح شیری
KHushk dariyaon ko pani de KHuda

غزل

خشک دریاؤں کو پانی دے خدا

عبید صدیقی

;

خشک دریاؤں کو پانی دے خدا
بادبانوں کو روانی دے خدا

بے سماعت کر دے سارے شہر کو
یا مجھے پھر بے زبانی دے خدا

کب تلک بے معجزہ ہو کر جیوں
کوئی تو اپنی نشانی دے خدا

چھوٹ جاؤں وسعتوں کی قید سے
وحشتوں کو لا مکانی دے خدا

سیکڑوں ہم زاد ہیں میرے یہاں
مجھ کو لیکن میرا ثانی دے خدا