EN हिंदी
خورشید رو کی صحبت جو اب نہیں تو پھر کب | شیح شیری
KHurshid-ru ki sohbat jo ab nahin to phir kab

غزل

خورشید رو کی صحبت جو اب نہیں تو پھر کب

عشق اورنگ آبادی

;

خورشید رو کی صحبت جو اب نہیں تو پھر کب
شبنم کی طرح قربت جو اب نہیں تو پھر کب

ذرے کی طرح مجھ پر اک مہر کی نظر کر
دیکھے وہ مہر طلعت جو اب نہیں تو پھر کب

جوڑا ہے زعفرانی اس گل بدن کے بر میں
خوش ہو مری طبیعت جو اب نہیں تو پھر کب

آلودہ دامنی کو دھونے کو منتظر ہوں
بارش دے ابر رحمت جو اب نہیں تو پھر کب

اس باغ میں دو روزہ ہے عشق زندگانی
گل کی طرح بشاشت جو اب نہیں تو پھر کب