EN हिंदी
خورشید رو کے مہر کی جس پر نگاہ ہو | شیح شیری
KHurshid-ru ke mahr ki jis par nigah ho

غزل

خورشید رو کے مہر کی جس پر نگاہ ہو

عشق اورنگ آبادی

;

خورشید رو کے مہر کی جس پر نگاہ ہو
طالع اسی کا خلق میں رخشندہ ماہ ہو

دشمن ہیں دین و دل کے بتاں دیکھ بے خبر
اس طرح کیجو ربط کہ جس میں نباہ ہو

ہرگز نہ عیب حسن کہے کس کے منہ پہ صاف
کر آئینہ مرا دل روشن نگاہ ہو

رہتا ہے دل تو اس کے زنخداں کے چاہ بیچ
نیں ہے بعید اس کو بھی گر دل کی چاہ ہو

آساں صراط حشر سے ہو ایک پل میں پار
گر ساتھ عشق عاصیؔ کے فضل الہ ہو