EN हिंदी
خودی کا راز داں ہو کر خودی کی داستاں ہو جا | شیح شیری
KHudi ka raazdan ho kar KHudi ki dastan ho ja

غزل

خودی کا راز داں ہو کر خودی کی داستاں ہو جا

عرش ملسیانی

;

خودی کا راز داں ہو کر خودی کی داستاں ہو جا
جہاں سے کیا غرض تجھ کو تو آپ اپنا جہاں ہو جا

بیان پایمالی شکوۂ برق تپاں ہو جا
گلستان جہاں کے پتے پتے کی زباں ہو جا

شریک کارواں ہونے کی گو طاقت نہیں تجھ میں
مگر اتنی تو ہمت کر کہ گرد کارواں ہو جا

تزلزل سے بری ہو تیرا استقلال الفت میں
یقین پر یقیں ہو جا گمان بے گماں ہو جا

کسی صورت تو شرح آرزوئے شوق کرنی ہے
زباں چپ ہے اگر اے دل تو آپ اپنی زباں ہو جا

زمانے پر بھروسا کر نہ راز عشق کا اے دل
جہاں تک ہو سکے تو آپ اپنا رازداں ہو جا

تجھے داغوں کے لاکھوں ماہ و انجم مل ہی جائیں گے
اٹھ اے درد دل پر آہ اٹھ کر آسماں ہو جا

کبھی تو عارضی سا اک تبسم لب پہ آنے دے
کبھی تو مہرباں مجھ پر مرے نا مہرباں ہو جا

ترے آنے پہ اے تیر نگاہ ناز میں خوش ہوں
دل بیتاب میں آ کر حساب دوستاں ہو جا

بلندی نام سے اے عرشؔ مل سکتی نہیں تجھ کو
زمین شعر پر اوج سخن سے آسماں ہو جا