EN हिंदी
خدا کو بھی نہیں دل مانتا ہے | شیح شیری
KHuda ko bhi nahin dil manta hai

غزل

خدا کو بھی نہیں دل مانتا ہے

جگر بریلوی

;

خدا کو بھی نہیں دل مانتا ہے
محبت ہی محبت جانتا ہے

کہیں ہو لڑ ہی جاتی ہیں نگاہیں
وہ دل کو دل اسے پہچانتا ہے

کلید باغ اس کے بخت میں ہے
پڑا جو خاک صحرا چھانتا ہے

دیار غم ہے فرعونوں کی بستی
کوئی کس کو یہاں گردانتا ہے

کل اس سے پوچھ لیں گے حال ہے کیا
بہت جو آج سینہ تانتا ہے

کہیں سے ڈھونڈ کر لاؤ جگرؔ کو
علاج درد دل وہ جانتا ہے