EN हिंदी
خود مجھ کو میرے دست کماں گیر سے ملا | شیح شیری
KHud mujhko mere dast-e-kaman-gir se mila

غزل

خود مجھ کو میرے دست کماں گیر سے ملا

شاہد کمال

;

خود مجھ کو میرے دست کماں گیر سے ملا
جو زخم بھی ملا ہے اسی تیر سے ملا

تجھ کو خبر بھی ہے مرے انکار کا جواب
تیغ و سنان و خنجر و شمشیر سے ملا

گم ہو گیا تھا میں اسی دشت وجود میں
میں اپنے اسم ذات کی تسخیر سے ملا

اے رمز آگہی میں تجھے خود پہ وا کروں
وحشت کو میرے پاؤں کی زنجیر سے ملا

ملنے کی کچھ خوشی نہ بچھڑنے کا خوف ہے
اے میری جان تو بڑی تاخیر سے ملا

دریا تمام تشنہ لبوں کی ہے ملکیت
اس مملکت کو پیاس کی جاگیر سے ملا

جو خواب میری چشم ضرورت نے کھو دیا
وہ خواب میرے خواب کی تعبیر سے ملا

شاہدؔ مرے مزاج کی آشفتگی نہ دیکھ
میری اداسیوں کا نسب میرؔ سے ملا