EN हिंदी
خود اپنے زخم سینا آ گیا ہے | شیح شیری
KHud apne zaKHm sina aa gaya hai

غزل

خود اپنے زخم سینا آ گیا ہے

فرحت شہزاد

;

خود اپنے زخم سینا آ گیا ہے
بالآخر مجھ کو جینا آ گیا ہے

منافق ہو گئے ہیں ہونٹ میرے
مرے دل کو بھی کینہ آ گیا ہے

بہا کر لے گیا طوفاں جوانی
لب ساحل سفینہ آ گیا ہے

کسی دکھ پر بھی آنکھیں نم نہ پا کر
مصائب کو پسینہ آ گیا ہے

بڑی استاد ہے یہ زندگی بھی
لو مجھ کو زہر پینا آ گیا ہے

لگا کر زخم خود مرہم بھی دے گا
اسے اتنا قرینہ آ گیا ہے

ہرے ہونے چلے ہیں زخم سارے
کہ ساون کا مہینہ آ گیا ہے