EN हिंदी
کھو کر تری گلی میں دل بے خبر کو میں | شیح شیری
kho kar teri gali mein dil-e-be-KHabar ko main

غزل

کھو کر تری گلی میں دل بے خبر کو میں

سیماب اکبرآبادی

;

کھو کر تری گلی میں دل بے خبر کو میں
فکر خودی سے چھوٹ گیا عمر بھر کو میں

سازش بقدر ربط تھی طور و جمال میں
سمجھا ہوں آج عقدۂ سنگ شرر کو میں

اب ہے تو مستقل ہو فروغ شب وصال
ایسا نہ ہو چراغ جلاؤں سحر کو میں

صحرا سے بار بار وطن کون جائے گا
کیوں اے جنوں یہیں نہ اٹھا لاؤں گھر کو میں

جھوما کیا سرور سے سیمابؔ رات بھر
دیکھا کیا کسی کی نشیلی نظر کو میں