EN हिंदी
خیمۂ جاں کو جو دیکھوں تو شرر بار لگے | شیح شیری
KHema-e-jaan ko jo dekhun to sharar-bar lage

غزل

خیمۂ جاں کو جو دیکھوں تو شرر بار لگے

عامر نظر

;

خیمۂ جاں کو جو دیکھوں تو شرر بار لگے
تار شبنم بھی یہاں شعلوں کا بازار لگے

ایک حسرت پس دہلیز انا بیٹھی رہی
کوئی تو آ کے رکا ہو در و دیوار لگے

چشم پر آب میں بہتی تھی سیاہی شب کی
دھوپ کا رقص مجھے اور گراں بار لگے

کیا ہوا منظر موجود کی پیشانی کو
زرد پتوں کی طرح سایۂ اشجار لگے

میری وحشت کا لہو چاٹ چکی ہے دنیا
اب تماشائے خرد صورت آزار لگے

میرا چہرہ ہے کسی قبر کا کتبہ عامرؔ
دل کی آواز بھی اب شور عزادار لگے