کھیل رچایا اس نے سارا ورنہ پھر کیوں ہوتا میں
اس نے ہی یہ بھیڑ لگائی بنا ہوں صرف تماشا میں
اس نے اپنے دم کو پھونکا اور مجھے بیدار کیا
میں پانی تھا میں ذرہ تھا لمبی نیند سے جاگا میں
اس نے پہلے روپ دیا پھر رنگ دیا پھر اذن دیا
بحر و بر میں برگ و ثمر میں نئے سفر پر نکلا میں
آئینے کی خواہش کر کے خود کو بھی آزار دیے
دیکھ لیا اب آئینے میں کب ہوں تیرے جیسا میں
قتل و غارت کے ہنگامے شور شرابہ تو ہوگا
مجھ کو یہاں پر بھیجنے والے وہاں نہ رہتا اچھا میں

غزل
کھیل رچایا اس نے سارا ورنہ پھر کیوں ہوتا میں
صابر وسیم