EN हिंदी
ختم ہوگا اب سفر پیش نظر ہے روئے دوست | شیح شیری
KHatm hoga ab safar pesh-e-nazar hai ru-e-dost

غزل

ختم ہوگا اب سفر پیش نظر ہے روئے دوست

میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی

;

ختم ہوگا اب سفر پیش نظر ہے روئے دوست
آ رہی ہے آج کی منزل سے مجھ کو بوئے دوست

آگے آگے حسرتیں اور پیچھے پیچھے میں چلا
اس طرح گھر سے نکل کر جا رہا ہوں سوئے دوست

پہلے تو دل نے جگر کی جان ناقدری سے لی
ڈھونڈھتا پھرتا ہے عالم بھر میں اب پہلوئے دوست

واہ ری قسمت کہ گردوں پر سحر ہونے لگی
گو پڑے تھے میرے بازو پر ابھی گیسوئے دوست

خود بخود میری رگ گردن پھڑک اٹھتی ہے آج
کر رہا ہے کوئی ذکر قوت بازوئے دوست

لفظ جو دل کی طلب میں تھا وہ بالکل سحر تھا
باتوں ہی باتوں میں مجھ پر چل گیا جادوئے دوست

کوئی دیوانہ چلا ہے حشر میں اس وضع سے
چاک تا دامن گریباں منہ پہ خاک کوئے دوست

دل سے مجھ کو صاف صاف آخر یہ کہہ دینا پڑا
اب وہی سختی بھی جھیلے جو بگاڑے خوئے دوست

ہو اگر زندہ تم اے عالمؔ تو اب ہشیار ہو
کب تلک سویا کرو گے تھک گیا زانوئے دوست