خلوت جاں سے چلی بات زباں تک پہنچی
کوئی چنگاری انگیٹھی سے دھواں تک پہنچی
راز و اسرار کے کھلنے کی توقع تھی کسے
اک کہانی تھی کسی طرح بیاں تک پہنچی
رہگزر کا ہے تقاضا کہ ابھی اور چلو
ایک امید جو منزل کے نشاں تک پہنچی
باعث راحت و غم لطف کرم تھا ورنہ
جتنی خواہش تھی فقط سود و زیاں تک پہنچی
تو نے پردہ نہ ہٹایا مجھے تسکیں نہ ہوئی
بندگی ہار کے پھر کوئے بتاں تک پہنچی
غزل
خلوت جاں سے چلی بات زباں تک پہنچی
مظفر ابدالی