EN हिंदी
خلا سا ٹھہرا ہوا ہے یہ چار سو کیسا | شیح شیری
KHala sa Thahra hua hai ye chaar-su kaisa

غزل

خلا سا ٹھہرا ہوا ہے یہ چار سو کیسا

شہرام سرمدی

;

خلا سا ٹھہرا ہوا ہے یہ چار سو کیسا
اجاڑ ہو گیا اک شہر رنگ و بو کیسا

تمام حلقۂ خواب و خیال حیراں ہے
سواد چشم میں آیا یہ ماہرو کیسا

کبھی جو فرصت یک لمحہ بھی ملے تو دیکھ
کہ دشت یاد میں بکھرا پڑا ہے تو کیسا

اگرچہ شورہ ہی شورہ سب علاقۂ دل
تجھے رکھا ہے مگر سبز و پر نمو کیسا

سرائے دل میں کئی دن سے شام ہوتے ہی
دھواں سا پھیلنے لگتا ہے کوبکو کیسا

ذرا جو سوچیں تو یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے
کہ ہونا چاہیے اب رنگ آرزو کیسا